İçeriğe geç
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Mursalaat
Sure 77

Al-Mursalaat

Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.

Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı

35–40. âyetler

هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ 35 وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ 36 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 37 هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَـٰكُمْ وَٱلْأَوَّلِينَ 38 فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ 39 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 40

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40)

[37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘

[40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘