İçeriğe geç
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ar-Room
Sure 30

Ar-Room

Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.

Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı

36–37. âyetler

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ 36 أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ 37

اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو رحمت تو وہ خوش ہوتے ہیں اس سےاوراگر پہنچے انھیں کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو ناگہاں وہ ناامید ہو جاتے ہیں (36) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے، اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ اس (فراخی اور تنگی) میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (37)

[36، 37] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سختی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت، فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچے‘‘ یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے‘‘ یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث ﴿اِذَا هُمۡ يَقۡنَطُوۡنَ ﴾’’تو ناامید ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور ہونے کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں یہ مایوسی ان کی جہالت اور عدم معرفت کے باعث ہے۔﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟‘‘ یہ جان لینے کے بعد کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، رزق میں تنگی اور فراخی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔ اے عقل مند شخص! مجرد اسباب پر نظر نہ رکھ بلکہ مسبب الاسباب کی طرف دیکھ، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو رزق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مشیت کے مطابق عطا کردہ کشادگی اور تنگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے انھیں اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کی رحمت، اس کے جودوکرم اور رزق کی تمام ضروریات میں دل کے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کی طرف میلان کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔