İçeriğe geç
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ash-Shu'araa
Sure 26

Ash-Shu'araa

Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.

Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı

217–220. âyetler

وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ 217 ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ 218 وَتَقَلُّبَكَ فِى ٱلسَّـٰجِدِينَ 219 إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ 220

اور توکل کیجیے اس پر جو غالب نہایت رحم کرنے والا ہے (217) وہ جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں (نماز کے لیے)(218) اور آپ کے ، پھرنے (اٹھنے بیٹھنے) کو سجدہ کرنے والوں میں (219) بلاشبہ وہ (اللہ) ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (220)

[217] جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسہ اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لیے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔‘‘ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لیے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔

[220-218] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے استحضار اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ يَرٰىكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ۰۰ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰؔجِدِيۡنَ ﴾ وہ آپ کو، اس عظیم عبادت میں ، جو نماز ہے، جب آپ قیام اور رکوع و سجود میں مصروف ہوتے ہیں ، دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ نماز فضل و شرف کی حامل ہے نیز جو کوئی استحضار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے وہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور اسے خشوع و تذلل حاصل ہوتا ہے اور وہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز کی تکمیل ہی سے تمام اعمال کی تکمیل ہوتی ہے اور نماز ہی کے ذریعے سے دیگر تمام امور پر اللہ تعالیٰ سے اعانت طلب کی جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو، ان کے اختلاف، تشتت اور تنوع کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یعنی اس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور غائب و موجود کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس بندۂ مومن کا یہ استحضار اور شہود کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے تمام احوال میں دیکھ رہا ہے، وہ جو کچھ بولتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سن رہا ہے، وہ اس کے دل کے عزائم، ارادوں اور نیتوں کو خوب جانتا ہے، منزل احسان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔