Ar-Ra'd
Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.
Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَـٰهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ 36
اور وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ خوش ہوتے ہیں ساتھ اس (قرآن) کے جو اتارا گیا ہے آپ کی طرف اور کچھ گروہ وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں اس کے بعض (احکام) کا، کہہ دیجیے مجھے تو حکم دیا گیا ہے اس کا کہ میں عبادت کروں صرف اللہ ہی کی اور نہ شریک ٹھہراؤں ساتھ اس کے (کسی کو بھی) اسی کی طرف بلاتا ہوں میں اور اسی کی طرف واپسی ہے میری (36)
[36]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب‘‘ یعنی ہم نے ان کو کتاب اللہ اور اس کی معرفت سے نوازا ﴿ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’وہ خوش ہوتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر‘‘ پس وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کتب الٰہیہ کی ایک دوسری کے ساتھ موافقت اور ایک دوسری کی تصدیق کرنے کی بنا پر خوش ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ ﴿ وَمِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ يُّنۡؔكِرُ بَعۡضَهٗ﴾ ’’اور بعض گروہ وہ ہیں جو اس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں ‘‘ یعنی کفار کے، حق سے منحرف، گروہ اس قرآن کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ ﴿مَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا﴾(بنی اسرائیل: 17؍15) ’’جو کوئی راہ راست پر چلتا ہے تو اس کی راست روی اس کے اپنے لیے فائدہ مند ہے۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے۔‘‘اے محمد! (ﷺ)آپ تو صرف ڈرانے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں ۔﴿ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشۡرِكَ بِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں ‘‘ یعنی مجھے صرف اللہ وحدہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا حکم دیا گیا ہے ﴿ اِلَيۡهِ اَدۡعُوۡا وَاِلَيۡهِ مَاٰبِ ﴾ ’’اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے‘‘ یعنی وہی میرا مرجع ہے جس کی طرف میں لوٹوں گا وہ مجھے اس بات کی جزا دے گا کہ میں نے اس کے دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور مجھے جو حکم دیا گیا میں نے اس کی تعمیل کی۔