An-Naazi'aat
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا 27 رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا 28 وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا 29 وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ 30 أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا 31 وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا 32 مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ 33
کیا تم سخت تر ہو (دوبارہ) تخلیق میں یا آسمان؟ اس (اللہ) نے اسے بنایا (27) بلند کی اس کی چھت ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اس کو (28) اور تاریک کیا اس کی رات کو اور ظاہر (روشن) کیا اس کے دن کو(29) اور زمین کو، بعد اس کے بچھایا اس کو (30) نکالا اس میں سے اس کا پانی اور اس کا چارہ (31) اور پہاڑوں کو، گاڑ دیا ان کو (32) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے (33)
[33-27] اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ﴾ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ﴾ ’’بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟‘‘ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا﴾ اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَعَ سَمۡؔكَهَا﴾ یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ’’ پھر اسے برابر کردیا۔‘‘ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغۡطَشَ لَيۡلَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخۡرَجَ ضُحٰؔىهَا﴾ یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا﴾ ’’اس نے بچھا دیا۔‘‘ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔ پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلۡ اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ۰۰ثُمَّ اسۡتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ۰۰فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ﴾(حم السجدۃ:32؍9-12) ’’کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے ۔‘‘ پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔
بنابریں اس کے بعد قیامت کے برپا ہونے کا ذکر کیا اور پھر جزا و سزا کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: