Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ad-Dukhaan
Sura ya 44

Ad-Dukhaan

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 34–37

إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ 34 إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ 35 فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ 36 أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَـٰهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ 37

بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)

[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔

[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔

[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔