Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Fussilat
Sura ya 41

Fussilat

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya ya 25

وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوا۟ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ خَـٰسِرِينَ 25

اور مقرر کر دیے ہم نے ان کے لیے کچھ ہم نشین، پس اچھے کر دکھائے انھوں نے ان کے لیے و ہ جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور ثابت ہو گئی ان پر بات ساتھ ان امتوں کے جو گزر چکیں ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، بلاشبہ تھے وہ خسارہ پانے والوں میں سے (25)

[25] یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لیے ﴿قُرَنَآءَ ﴾ ’’ہم نشین‘‘ شیاطین کو ساتھی مقرر کر دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَمۡ تَرَ اَنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ تَؤُزُّهُمۡ اَزًّا﴾(مریم: 19؍83) ’’کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انھیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ انھیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لیے بے قرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا۔﴿ لَهُمۡ مَّا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’ان کے لیے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا۔‘‘ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کر دیا اور انھیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کر دیا، یہاں تک کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا اقدام کیا اور جیسے چاہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف جنگ کی راہ چل نکلے اور انھوں نے آخرت کو ان سے دور کر دیا اور اس کی یاد کو فراموش کرا دیا۔ بسااوقات آخرت کے وقوع کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جس سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف چلا گیا اور وہ ان کو لے کر کفر، بدعات اور معاصی کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کا ان مکذبینِ حق پر شیاطین کو مسلط کرنا، ان کی اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی آیات سے روگردانی اور ان کے انکار حق کے سبب سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَيِّضۡ لَهٗ شَيۡطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيۡنٌ۰۰۳۶ وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍36۔37)’’جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے، یہ شیاطین انھیں راہ راست پر چلنے سے روک دیتے ہیں اور یہ اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔‘‘﴿وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہوگیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ان پر واجب ہو گیا اور اس کی قضاوقدر کا فیصلہ، عذاب کے ساتھ ان پر نازل ہو گیا۔ ﴿فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ١ۚ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنوں اور انسانوں کی جماعتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکیں (جن پر بھی اللہ کا وعدہ پورا ہوا) کہ بے شک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ جو اپنے دین اور آخرت کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے اور جو شخص گھاٹے میں پڑ جائے تو اسے ذلت ، اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔