An-Nisaa
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ وَيَأْتِ بِـَٔاخَرِينَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا 133 مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا 134
اگر چاہے وہ تو لے جائے تمھیں اے لوگو! اور لے آئے دوسروں کواور ہے اللہ اوپر اس کے خوب قدرت رکھنے والا(133) جو کوئی ارادہ کرتا ہے ثواب (صلے) کا دنیا میں تو اللہ کے ہاں ثواب ہے دنیا کا اور آخرت کا اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا(134)
[133] یعنی وہ (غَنِيٌّ حَمِیْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَاۡتِ بِاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمھاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لیے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا)
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جس کسی کی ہمت اور ارادہ گھٹیا ہے اور دنیا کے ثواب سے آگے نہیں بڑھتا۔ اور وہ آخرت کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتا، پس اس کی نظر اور اس کی کوشش کوتاہ ہے۔ بایں ہمہ اسے دنیا کا ثواب بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے دنیا و آخرت کا ثواب اسی کے پاس ہے، پس دنیا و آخرت اسی سے طلب کی جائے اور ان کے حصول کے لیے اسی سے مدد مانگی جائے۔ کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف اس کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے اور تمام دینی اور دنیاوی امور کا حصول اسی سے مدد طلب کرنے اور ہمیشہ صرف اسی کا محتاج ہونے سے ممکن ہے وہ جس کسی کو اپنی توفیق سے نوازتا ہے یا اسے توفیق سے محروم کر کے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اس میں اس کی حکمت پنہاں ہے اس کا کسی کو عطا کرنا اور محروم کرنا اس کی حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘