Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nisaa
Sura ya 4

An-Nisaa

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya ya 128

وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا 128

اور اگر کوئی عورت اندیشہ کرے اپنے خاوند سے ظلم و زیادتی کا یا اعراض کا تو نہیں گناہ ان دونوں پر کہ صلح کر لیں وہ آپس میں (کسی طرح ) صلح کرنااور صلح بہت بہتر ہے اور حاضر کیے گئے ہیں نفس بخل کواور اگر تم نیکی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ ہے اللہ، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خبردار(128)

[128] یعنی جب عورت اپنے شوہر کے سخت رویے اور ظلم سے ڈرے یعنی خاوند اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے اور اس میں عدم رغبت کی وجہ سے اعراض کرے تو اس حالت میں بہتر صورت یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں مصالحت کر لیں۔ اور وہ اس طرح کہ بیوی اپنے بعض ان حقوق کو، جو شوہر پر لازم ہیں اس طرح نظر انداز کر دے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ سکے۔ یا تو وہ نان و نفقہ لباس، مکان وغیرہ میں سے قلیل ترین واجب پر راضی ہو جائے۔ یا اپنی باری میں سے اپنا حق ساقط کر دے یا اپنی باری کے شب و روز اپنی سوکن کو ہبہ کر دے اگر میاں بیوی اس صورت حال پر راضی ہو جائیں تو اس میں دونوں کے لیے کوئی حرج نہیں، اس میں میاں بیوی دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ تب اس صورت حال میں اپنی بیوی کے ساتھ باقی رہنا جائز ہے اور یہ علیحدگی سے بہتر ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ﴾ ’’صلح بہتر ہے۔‘‘ اس لفظ اور معنی کے عموم سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی حق یا تمام اشیاء میں نزاع ہو تو صلح اس سے بہتر ہے کہ وہ تمام اشیاء میں پورا پورا حق وصول کرنے کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ اس صلح میں اصلاح، دونوں کے مابین الفت کی بقا اور سماحت (درگزر کرنے) کی صفت سے متصف ہونا ہے۔ یہ صلح تمام اشیاء میں جائز ہے سوائے اس صورت کے جس میں کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو۔ تب یہ صلح نہیں بلکہ ظلم و جور ہے۔معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی حکم اس کے مقتضی کے وجود اور موانع کی نفی کے بغیر مکمل اور پورا نہیں ہوتا اس کی مثال یہی بڑا حکم ہے یعنی فریقین کے درمیان صلح، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا تقاضا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بھلائی ہے اور عمل کرنے والا ہر شخص بھلائی کا طالب اور بھلائی میں رغبت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کا حکم دیا ہو اور اس کی طرف رغبت دلائی ہو تو اس میں مومن کی طلب اور رغبت اور بڑھ جاتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ﴾ ’’طمع ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے‘‘ یعنی بخل انسان کی جبلت ہے یہاں (الشُّ٘حَّ) ’’بخل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ انسان پر خرچ کرنا واجب ہے اسے خرچ کرنے میں راغب نہ ہو۔ اور اپنا حق حاصل کرنے کا بڑا حریص ہو۔ تمام نفوس طبعی طور پر اسی جبلت پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم اپنے نفس سے اس گھٹیا خلق کا قلع قمع کرنے اور اس کی جگہ اس کی ضد یعنی سماحت کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ سماحت سے مراد یہ ہے کہ تم اس حق کو ادا کرو جو تمھارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اس کے کچھ حصے پر قناعت کرو۔ جب کبھی انسان کو اس خلق حسن کو اپنانے کی توفیق مل جاتی ہے تو اس کے لیے اپنے اور اپنے مخالف کے درمیان صلح آسان ہو جاتی ہے اور منزل مقصود تک پہنچنے کا راستہ سہل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی طبیعت سے بخل کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے لیے صلح اور موافقت بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ اپنا پورا حق لیے بغیر راضی نہیں ہوتا اور اس پر جو حق واجب ہے اسے ادا کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر دوسرے فریق کا رویہ بھی ایسا ہی ہو تو معاملہ اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا: ﴿ وَاِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو‘‘ یعنی اگر تم خالق کی عبادت میں احسان سے کام لو یعنی بندہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی تو یہ تصور پیدا کرے کہ وہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اور تم احسان کے تمام طریقوں سے یعنی مال، اور جاہ وغیرہ کے ذریعے سے لوگوں سے بھلائی کرو ﴿ وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’پرہیز گاری اختیار کرو۔‘‘ یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اور تمام محظورات سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم مامورات پر عمل کرنے میں احسان سے کام لو اور محظورات کو ترک کر کے اللہ سے ڈرو۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن کا اپنے علم و خبر کے ذریعے سے احاطہ کیے ہوئے ہے پس وہ تمھارے اعمال کو محفوظ کر رہا ہے وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔