Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ahzaab
Sura ya 33

Al-Ahzaab

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya ya 36

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا 36

اور نہیں ہے لائق واسطے کسی مومن اور نہ کسی مومنہ کے، جب فیصلہ کر دے اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا، یہ کہ ہو (اس کےبعد) ان کے لیے اختیاران کے معاملے میں اور جو نافرمانی کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو تحقیق گمراہ ہو گیا وہ گمراہ ظاہر(36)

[36] جو شخص ایمان سے متصف ہے اس کے لیے اس کے سوا اور کچھ مناسب نہیں کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف سبقت کرے، ان کی ناراضی سے بچے، ان کے حکم کی تعمیل کرے اور جس کام سے وہ روک دیں، اس سے اجتناب کرے۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں کہ ﴿اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا ﴾ ’’جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کر دیں۔‘‘ اور اس کی تعمیل کو لازم قرار دے دیں تو ﴿اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ﴾’’ان کے لیے اس فیصلے پر عمل کا اختیار باقی رہے۔‘‘ کہ آیا وہ اس کام کو کریں یا نہ کریں؟ بلکہ مومن مرد اور مومن عورتیں جانتے ہیں کہ رسول ﷺ ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں، اس لیے وہ اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان، اپنی کسی خواہشِ نفس کو حجاب نہ بنائیں۔﴿وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہ ہو گیا۔‘‘ یعنی وہ واضح طور پر گمراہ ہو گیا کیونکہ اس نے صراط مستقیم کو ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک جاتا ہے، دوسرا راستہ اختیار کر لیا جو دردناک عذاب تک پہنچتا ہے۔سب سے پہلے اس سبب کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کے حکم سے عدم معارضہ کا موجب ہے اور وہ ہے ایمان، پھر اس سے مانع کا ذکر فرمایا اور وہ ہے گمراہی سے ڈرانا، جو عذاب اور سزا پر دلالت کرتا ہے۔