Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
Sura ya 3

Aal-i-Imraan

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 137–138

قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ 137 هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ 138

تحقیق گزر چکے تم سے پہلے کئی واقعات، پس سیر کرو تم زمین میں اور دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا(137) یہ وضاحت ہے واسطے لوگوں کے اور ہدایت اور نصیحت ہے واسطے متقیوں کے(138)

[137]یہ آیات کریمہ اور ان کے بعد آنے والی آیات ’’اُحد‘‘ کے واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جن میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں اور امتوں کو بھی امتحان میں ڈالا گیا اور اہل ایمان کفار کے ساتھ جنگ کی آزمائش میں مبتلا کیے گئے اور وہ بھی کبھی فتح سے نوازے گئے اورکبھی انھیں زک اٹھانا پڑی۔ مگراس تمام کشمکش کا انجام اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے حق میں رکھا اور اپنے مومن بندوں کو فتح و نصرت سے نوازا۔ آخرکار جھٹلانے والوں پر غلبہ حاصل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو اپنی نصرت عطا کر کے جھٹلانے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔﴿ فَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین میں چلو پھرو‘‘ یعنی اپنے جسم اور قلوب کے ساتھ (زمین میں چلو پھرو)﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ ﴾ تم تکذیب کرنے والوں کو مختلف قسم کے دنیاوی عذاب اور عقوبتوں میں مبتلا پاؤ گے۔ ان کے شہر تباہ و برباد ہو گئے اور ان کا خسارہ سب پر عیاں ہوگیا۔ ان کی شان و شوکت اور اقتدار قصہ پارینہ بن گیا، ان کا تکبر اور فخر ختم ہوگیا۔ کیا یہ سب اس امر کی سب سے بڑی دلیل اور سب سے بڑا شاہد نہیں کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر مبعوث ہوئے وہ صداقت پر مبنی ہے؟بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ سچوں اور جھوٹوں میں امتیاز ہو جائے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

[138]﴿ هٰؔذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی یہ واضح دلیل ہے جو لوگوں کے سامنے باطل میں سے حق کو واضح کر دیتی ہے۔ اہل شقاوت میں سے اہل سعادت کو ممتاز کر دیتی ہے اور یہ اس عذاب کی طرف بھی اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو مبتلا کیا۔ ﴿ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ اورمتقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے صرف یہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ آیات انھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتی اور انھیں گمراہی کے راستے سے روکتی ہیں۔ رہے باقی لوگ تو یہ ان کے سامنے کھول کر بیان کر دینا ہے جس سے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کو جان کر ہلاک ہو۔نیز اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ﴿ هٰؔذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ ﴾ میں قرآن مجید اور ذکر حکیم کی طرف اشارہ ہو اور یہ کہ یہ عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے بیان ہے اور اہل تقویٰ کے لیے خاص طور پر ہدایت اور نصیحت ہے۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔