An-Naml
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ 83 حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَـٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ 84 وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا۟ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ 85
اور جس دن اکٹھا کریں گے ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں میں سے جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پس وہ روکے جائیں گے (83) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے (محشر میں ) تو کہے گا (اللہ)، کیا جھٹلایا تھا تم نے میری آیتوں کو جبکہ نہیں احاطہ کیا تھا تم نے ان کا علم سے یا کیا تھے تم عمل کرتے رہے؟ (84) اور واقع ہو جائے گا قول (عذاب) ان پر بوجہ اس کے جو ظلم کیا انھوں نے پس وہ نہیں بول سکیں گے (85)
[83] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ مِّمَّنۡ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ساتھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔‘‘ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجروتوبیخ اور ملامت کی جائے گی۔
[84]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡ ﴾ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو زجروتوبیخ کرتے اور ڈانٹتے ہوئے پوچھے گا ﴿ اَ كَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِيۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا ﴾ ’’کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ تمھارے علم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا۔‘‘ تم پر اس وقت تک توقف کرنا فرض تھا جب تک کہ حق منکشف نہ ہو جاتا اور صرف کسی علم کی بنیاد پر کلام کرتے۔ تم نے ایک ایسے امر کی کیونکر تکذیب کر دی جبکہ تمھیں اس کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں ﴿ اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کچھ کرتے رہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے ان کے علم اور ان کے عمل کے بارے میں سوال کرے گا تو وہ ان کے علم کو حق کی تکذیب کرنے والا اور ان کے عمل کو غیر اللہ کے لیے یا ان کے رسول(ﷺ) کی سنت کے خلاف پائے گا۔
[85]﴿ وَوَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ اور جب، ان کے اس ظلم کی پاداش میں جس پر وہ اڑے ہوئے تھے، ان کے لیے عذاب کا حکم متحقق ہوجائے گا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجائے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ بول نہیں سکیں گے۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔