Al-Kahf
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلًا 54
اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے، اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال اور ہے انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو (54)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت وجلالت اور اس کے عموم کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں ہر قسم کی مثال بیان کی ہے یعنی ہر وہ راستہ واضح کر دیا ہے جو علوم نافعہ اور سعادت ابدیہ تک پہنچاتا ہے اور ہر اس طریق سے آگاہ فرما دیا ہے جو انسان کو شر اور ہلاکت سے بچاتا ہے۔ پس اس قرآن کریم میں حلال و حرام، جزائے اعمال، ترغیب و ترہیب کی مثالیں ہیں ، سچی خبریں ہیں جو اعتقاد، طمانینت اور روشنی کے اعتبار سے دلوں کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ یہ چیز واجب ٹھہراتی ہے کہ قرآن کریم کو اطاعت و انقیاد اور کسی بھی امر میں عدم منازعت کے ساتھ تسلیم کیا جائے مگر اس کے باوجود اکثر لوگ، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی، باطل دلائل کے ساتھ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔ ﴿ لِيُدۡحِضُوۡا بِهِ الۡحَقَّ ﴾(الکہف:18؍56) ’’تاکہ حق کو نیچا دکھائیں ۔‘‘ بنابریں فرمایا: ﴿ وَؔكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَيۡءٍ جَدَلًا﴾ ’’اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑالو‘‘ یعنی بہت جھگڑالو اور بحثیں کرنے والا ہے، حالانکہ یہ اس کے لائق ہے نہ یہ قرین انصاف ہے اور اس کا اللہ پر ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں کہ اس کو بیان کرنے اور اس کی حجت و برہان کو واضح کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے بلکہ ظلم و عناد، ان کے اس رویے کا موجب ہے۔ ورنہ اگر ان پر عذاب اور وہ سختیاں اور مصیبتیں آ جاتیں جو پہلے لوگوں پر آئی تھیں تو ان کا یہ حال نہ ہوتا، اس لیے فرمایا: