Al-Anbiyaa
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
وَلُوطًا ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَنَجَّيْنَـٰهُ مِنَ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَت تَّعْمَلُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍ فَـٰسِقِينَ 74 وَأَدْخَلْنَـٰهُ فِى رَحْمَتِنَآ ۖ إِنَّهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ 75
اور لوط کو، دیا ہم نے اسے حکم اور علم اور نجات دی ہم نے اسے اس بستی سے وہ جو کرتے تھے (اس کے باشندے) کام ناپاک، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، نافرمان (74) اور داخل کیا ہم نے اس (لوط) کو اپنی رحمت میں ، بے شک وہ صالح لوگوں میں سے تھا(75)
[74] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول لوط u کی مدح و ثناء ہے کہ وہ شریعت کا علم رکھتے تھے، نیز یہ کہ و ہ لوگوں کے درمیان صواب اور راستی کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے انھیں ان کی بدکاریوں اور فواحش سے روکتے تھے۔ پس وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر انھوں نے ان کی دعوت پر لبیک نہ کہی۔ تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر دیا ﴿ كَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِيۡنَ﴾ کیونکہ وہ بڑے ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے داعی کو جھٹلایا اور انھیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے لوط u کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات اس بستی سے دور نکل جائیں ، چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر اس بستی سے دور نکل گئے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی وجہ سے ہوا۔
[75] ارشاد فرمایا: ﴿ وَاَدۡخَلۡنٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِنَا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو داخل کر لیا اپنی رحمت میں ۔‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہو جاتا ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے جو ہر قسم کے خوف سے مامون ہیں ، جو ہر قسم کی بھلائی، سعادت، نیکی، مسرت اور مدح و ثنا سے بہرہ ور ہیں ۔ یہ اس لیے کہ لوط u ان صالحین میں سے ہیں ، جن کے اعمال درست اور احوال پاک ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام فاسد امور کو درست فرما دیا اور بندے کا درست ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت میں اس کے داخل ہونے کا سبب ہے جیسے بندے کا فاسد ہونا اس کے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور خیر سے محروم ہونے کا سبب ہے۔صالحیت کے اعتبار سے انبیاء کرام علیہ السلام سب سے بڑے لوگ ہیں اس لیے صالحیت کے ساتھ ان کا وصف بیان فرمایا۔ حضرت سلیمان u نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا مانگی:﴿ وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(النمل:27؍19) ’’مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں میں شامل کر۔‘‘