Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anbiyaa
Sura ta 21

Al-Anbiyaa

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 76–77

وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ فَنَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ 76 وَنَصَرْنَـٰهُ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَـٰهُمْ أَجْمَعِينَ 77

اور یاد کیجیے نوح کو جب اس نے پکارا تھا اس سے پہلے،پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل (مومنوں ) کو غم سے جو بہت بڑا تھا (76) اور مدد کی ہم نے اس کی اس قوم کے خلاف جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، پس غرق کر دیا ہم نے ان کو سب کو (77)

[77,76] ہمارے بندے اور رسول نوح (u) کی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر کیجیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور وہ ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے روکتے رہے، بار بار انھیں کھلے چھپے اور شب و روز اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تو انھوں نے اپنے رب کو پکارا اور دعا کی۔ ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا ﴾(نوح: 71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو آباد نہ رہنے دے اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر اور کافر اولاد ہی کو جنم دیں گے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نوح u کی دعا کو قبول فرما لیا اور ان کو سیلاب میں غرق کر دیا، ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ باقی نہ چھوڑا۔ صرف نوح u کی ذریت باقی رہ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ٹھٹھا کرنے والی قوم کے خلاف ان کی مدد فرمائی۔