الجن
هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.
النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21
وَأَمَّا ٱلْقَـٰسِطُونَ فَكَانُوا۟ لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ١٥ وَأَلَّوِ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَـٰهُم مَّآءً غَدَقًا ١٦ لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِۦ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا ١٧
اور لیکن وہ جو ظالم ہیں تو وہ ہیں جہنم کا ایندھن (15) اور (وحی کی گئی ہے) یہ کہ اگر قائم رہیں وہ سیدھے راستے پر تو البتہ ہم پلائیں ان کو پانی وافر (16) تاکہ ہم آزمائیں ان کو اس میں اور جو کوئی اعراض کرے گا ذکر سے اپنے رب کے تو وہ (رب) داخل کرے گا اسے عذاب سخت میں (17)
[15]یعنی ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کی پاداش میں جہنم رسید کرے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔[16] یعنی اگر وہ ﴿ اسۡتَقَامُوۡا عَلَى الطَّرِيۡقَةِ ﴾ ’’سیدھے راستے پر رہتے ‘‘ ﴿ لَاَسۡقَيۡنٰهُمۡ۠ مَّآءًؔ غَدَقًا﴾’’تو ہم انھیں وافر پانی پلاتے ۔‘‘ یعنی وہ مزے سے بستے لیکن ان کے ظلم وعدوان نے انھیں اس سے روک دیا۔[17]﴿لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ﴾ یعنی تاکہ ہم ان کو آزمائیں اور ان کا امتحان لیں تاکہ جھوٹے اور سچے کے درمیان فرق ظاہر ہو جائے ﴿ وَمَنۡ يُّعۡرِضۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهٖ يَسۡلُكۡهُ عَذَابًا صَعَدًا﴾ ، یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر ...جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ...سے روگردانی کرے، اس کی اتباع کرے نہ اس کی اطاعت کرے بلکہ اس کے بارے میں غافل رہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب دے گا، یعنی سختی کی انتہا کو پہنچا ہوا عذاب۔