الذاريات
هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.
النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْحُبُكِ ٧ إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ٨ يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ٩
قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے(7) بلاشبہ تم (باہم) البتہ مختلف بات میں (پڑے) ہو (8) پھیرا جاتا ہے اس (ایمان) سے جو شخص پھیرا گیا (بھلائی سے)(9)
[7] خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیمِ سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔
[8]﴿ اِنَّـكُمۡ﴾ محمد کریمﷺ کو جھٹلانے والو! تم ﴿ لَفِيۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ﴾ ’’مختلف قول میں ہو۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت اور شک نیز اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔
[9]﴿ يُّؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ﴾ پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل و براہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفی محمدﷺ لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف۔ اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء:4؍82) ’’اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘