انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · الصافات
السورة ٣٧

الصافات

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ١٥٨–١٦٠

وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ١٥٨ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ١٥٩ إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ ١٦٠

اور ٹھہرایا انھوں نے درمیان اس (اللہ) کے اور درمیان جنوں کے رشتہ، اور البتہ تحقیق جان لیا جنوں نے کہ بلاشبہ وہ حاضر کیے جائیں گے(158) پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو وہ (اس کی بابت) بیان کرتے ہیں(159) سوائے بندگان الٰہی کے (جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں(160)

[158] یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

[159، 160]﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیمِ کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کررہے ہیں جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اسے جن اوصاف سے موصوف کیا اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ نہیں کہا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صرف انھی اوصاف سے موصوف کیا ہے جو اس کے جلال کے لائق ہیں اور بایں وجہ وہ مخلص بندے ہیں۔