انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · القصص
السورة ٢٨

القصص

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ٧٤–٧٥

وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ٧٤ وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا فَقُلْنَا هَاتُوا۟ بُرْهَـٰنَكُمْ فَعَلِمُوٓا۟ أَنَّ ٱلْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ ٧٥

اورجس دن ندا دے گا انھیں اللہ، پھر وہ کہے گا، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (74) اور ہم نکالیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ ، پھر کہیں گے ہم، لاؤ تم اپنی دلیل، پس جان لیں گے وہ کہ بلاشبہ سچی بات اللہ ہی کی ہے اور گم ہو جائے گا ان سے جو کچھ تھے وہ افتراباندھتے (75)

[75,74] جس روز اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان لوگوں کو… جو غیر اللہ کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ الوہیت میں غیر اللہ کا حصہ ہے اور ان کے یہ خود ساختہ معبود عبادت کے مستحق ہیں اور نفع و نقصان دینے کی طاقت رکھتے ہیں … پکارے گا۔ پس جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی جسارت، ان کے زعم کا ذب اور ان کی خود اپنے آپ کی تکذیب کو ظاہر کرنا چاہے گا۔ ﴿يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کو پکار کر پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم، شریک سمجھتے تھے۔‘‘ یہ نفس امر میں شریک نہیں بلکہ ان کے زعم باطل کے مطابق شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾(یونس:10؍66) ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ تو محض اپنے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ صرف قیاس آرائیاں کررہے ہیں ۔‘‘جب یہ مشرکین اور ان کے معبودان باطل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ﴿ مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيۡدًا ﴾ ’’ہر امت میں سے ایک گواہ‘‘ یعنی جھٹلانے والی ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کرے گا جو دنیا میں ان کے کرتوتوں ، ان کے شرک اور ان کے اعتقادات پر گواہی دے گا اور یہ منتخب لوگ ہوں گے یعنی ہم جھٹلانے والوں کے سرداروں میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر لیں گے جو اپنی طرف سے اور اپنے بھائیوں کی طرف سے جھگڑیں گے کیونکہ وہ ایک ہی راستے پر چلتے رہے ہیں اور جب وہ محاکمہ کے لیے سامنے آئیں گے ﴿ فَقُلۡنَا هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ ﴾ ’’تو ہم (ان سے)کہیں گے اپنی دلیل لاؤ‘‘ یعنی اپنے شرک کی صحت پر حجت و برہان کہ آیا ہم نے تمھیں اس شرک کا حکم دیا؟ کیا میرے رسولوں نے تمھیں اس کا حکم دیا؟ یا اس شرک کے جواز کے بارے میں تم نے میری کتابوں میں کچھ لکھا ہوا پایا؟ کیا ان خود ساختہ شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو الوہیت کا مستحق ہو؟ کیا یہ معبود تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹانے میں تمھارے کوئی کام آ سکتے ہیں ؟ اگر ان میں کوئی اہلیت ہے تو وہ یہ کام کر دیکھیں وہ تم سے عذاب الٰہی کو دور کریں اگر وہ ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔﴿ فَعَلِمُوۡۤا ﴾ ’’تب وہ جان لیں گے‘‘ اپنے قول کے بطلان و فساد کو اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا ﴿ اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰهِ ﴾ ’’کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ خصومت ان کی طرف رخ کر لے گی۔ ان کی حجت ناکام اور اللہ تعالیٰ کی حجت غالب آ جائے گی۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’جو جھوٹ اور بہتان انھوں نے گھڑا تھا سب مضمحل، ناپید اور معدوم ہو جائے گا۔‘‘ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی شخص کو سزا دی ہے جو اس کا مستحق اور اہل ہے۔