انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · المؤمنون
السورة ٢٣

المؤمنون

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ٢١–٢٢

وَإِنَّ لَكُمْ فِى ٱلْأَنْعَـٰمِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِى بُطُونِهَا وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـٰفِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ٢١ وَعَلَيْهَا وَعَلَى ٱلْفُلْكِ تُحْمَلُونَ ٢٢

اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپایوں میں البتہ عبرت ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہےاور تمھارے لیے ان میں منافع ہیں بہت اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو (21) اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (22)

[21]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً﴾ یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے مویشيوں ، یعنی اونٹوں ، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے فوائد ہیں ۔ ﴿ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّؔمَّا فِيۡ بُطُوۡنِهَا﴾ ’’پلاتے ہیں ہم تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔‘‘ یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے ﴿ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ ﴾ یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمھارے لیے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمھارے لیے خیمے بنائے جنھیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں ) بہت ہلکا پاتے ہو۔ ﴿ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ یعنی تم ان كے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانا کھاتے ہو۔

[22]﴿ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔‘‘ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں ۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔