انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · البقرة
السورة ٢

البقرة

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآية ١١٥

وَلِلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ١١٥

اور اللہ کے لیے ہیں مشرق و مغرب، پس جس طرف بھی تم منہ کرو گے تو وہاں ہی ہے چہرہ اللہ کا، بلاشبہ اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(115)

[115]﴿ وَلِلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق و مغرب کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ یہ روشنی کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی آیات عظیمہ کا محل و مقام ہیں اور جب وہ مشارق و مغارب کا مالک ہے، تو تمام جہات اسی کی ملکیت ہیں۔ ﴿ فَاَيۡنَمَا تُوَلُّوۡا﴾ پس ان جہات میں سے جس کسی جہت کی طرف بھی تم اپنا منہ پھیر لو گے، بشرطیکہ تمھارا اس کی طرف منہ پھیرنا اللہ کے حکم سے ہو۔ یا تو وہ تمھیں حکم دے کہ خانہ کعبہ کی طرف بھی تم منہ پھیر لو، جبکہ پہلے تم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے پابند تھے یا سفر میں تمھیں سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے، اس صورت میں اس کا قبلہ وہی ہو گا جس کی طرف وہ منہ کرے گا یا (انجان جگہ میں) قبلے کا رخ معلوم نہ ہو، پس اپنے اندازے سے نماز پڑھ لی، بعد میں معلوم ہوا کہ اندازہ غلط تھا یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے قبلہ رخ ہونا مشکل ہو۔ ان تمام صورتوں میں وہ یا تو مامور ہے (یعنی اللہ کے حکم پر قبلے کی طرف رخ کرنے والا ہے) یا معذور ہے۔ ہر حال میں بندہ جس جہت کی طرف بھی منہ کرتا ہے وہ جہت اللہ تعالیٰ کی ملکیت سے باہر نہیں۔ ﴿ فَثَمَّ وَجۡهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جدھر بھی تم رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے بے شک اللہ وسعت والا علم والا ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے چہرے کا اثبات ہوتا ہے مگر جیسے اس کی ذات اقدس کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے مگر مخلوق کے چہروں کے مشابہ نہیں۔ (اللہ تعالیٰ اس مشابہت سے بلند و برتر ہے) وہ وسیع فضل اور عظیم صفات کا مالک ہے اور تمھارے سینوں کے بھید اور نیتوں کو جاننے والا ہے۔ اس نے وسعت فضل و علم کی بنا پر تمھارے لیے احکام میں وسعت بخشی ہے اور تم سے مامورات کو قبول فرمایا۔ ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر صرف اسی کی ذات کے لیے ہے۔