البقرة
هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.
النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٰعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَلِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ١٠٤ مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَلَا ٱلْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ ١٠٥
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ کہو تم ’’رَاعِنَا‘‘ اور کہو تم ’’اُنْظُرْنا‘‘ اور (غور سے) سنو تم، اور کافروں کے لیے ہے عذاب بہت دردناک(104) نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین، یہ کہ نازل کی جائے تم پر (اے مسلمانو!) کوئی خیر تمھارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرتا ہے ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتاہے اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(105)
[104] مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لیے رسول اللہﷺسے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے ﴿ رَاعِنَا﴾ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجیے، ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہﷺکو خطاب کرتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرمﷺکو خطاب کرنے سے روک دیا، تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہو جائے۔ اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لیے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان ہے جو اچھے ہوں، جن میں بے ہودگی نہ ہو۔ نیز قبیح الفاظ کے ترک کرنے کی تاکید ہے یا جن میں کسی قسم کی تشویش اور کسی نامناسب امر کا احتمال ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں صرف اچھے معنی کا احتمال ہو۔ فرمایا:﴿ وَقُوۡلُوا انۡظُرۡنَا ﴾ ’’اور اُنْظُرْنَا کہو‘‘ یہ لفظ کافی ہے اور بغیر کسی خدشے کے، اس سے اصل مقصد حاصل ہو جاتا ہے ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور سنو‘‘ یہاں مَسْمُوعٌ کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس کی عمومیت میں ہر وہ چیز شامل ہو جس کے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے مفہوم میں سماع قرآن اور سماع سنت شامل ہیں جو لفظی، معنوی اور قبولیت کے اعتبار سے سراسر حکمت ہے۔ اس میں ادب اور اطاعت کی تعلیم ہے۔
[105] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے اور یہود اور مشرکین کی مسلمانوں کے ساتھ عداوت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ﴿ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔‘‘ یعنی کم یا زیادہ ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ ان کی یہ خواہش تمھارے ساتھ بغض اور اس بات پر حسد کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنے فضل کے ساتھ مختص کیوں کیا ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’بے شک اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ یہ اس کا فضل ہی ہے کہ اس نے تمھارے رسول پر کتاب نازل کی تاکہ وہ تمھیں پاک کرے، تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور تمھیں وہ کچھ سکھائے جو تم نہیں جانتے۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ۔