انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · الكهف
السورة ١٨

الكهف

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآية ١٦

وَإِذِ ٱعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأْوُۥٓا۟ إِلَى ٱلْكَهْفِ يَنشُرْ لَكُمْ رَبُّكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَيُهَيِّئْ لَكُم مِّنْ أَمْرِكُم مِّرْفَقًا ١٦

اور جب الگ ہو گئے ہو تم ان سے اور جن کی وہ عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے تو پناہ لو تم اس غار کی طرف، پھیلا دے گا تم پر تمھارا رب اپنی رحمت اورمہیا کر دے گا تمھارے لیے تمھارے کام میں آسانی (16)

[16] یعنی انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ چونکہ تم جسمانی اور دینی طور پر اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو، اس لیے اب ان کے شر سے نجات پانا اور اس کے لیے اسباب اختیار کرنا باقی ہے کیونکہ وہ ان کے ساتھ جنگ کر سکتے ہیں نہ اس بنا پر ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں کہ ان کا دین ان کی قوم کے دین سے مختلف ہے۔ ﴿فَاۡوٗۤا اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس جگہ پکڑ و غار کی طرف‘‘ یعنی غار میں جا کر چھپ جاؤ۔ ﴿ يَنۡشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيُهَيِّئۡ لَكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا﴾ ’’پھیلا دے گا تم پر تمھارا رب اپنی رحمت اور مہیا کرے گا تمھیں تمھارے کام میں آسانی‘‘ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی اس دعا کے بارے میں خبر دی تھی۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا﴾ انھوں نے اپنی قوت و اختیار سے براء ت کا اظہار کیا، اپنے معاملے کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کے حضور ملتجی ہوئے اور اس پر بھروسہ کیا کہ وہ ان کے معاملے کی اصلاح کرے گا۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا اور ان کے معاملے میں آسانی پیدا کر دی۔ ان کی زندگی اور ان کے دین کی حفاظت کی اور خلائق کے لیے انھیں ایک بڑا معجزہ بنا دیا اور ان کی ثنائے حسن کو دنیا میں پھیلا دیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور ان کے لیے ہر سبب آسان کر دیا حتیٰ کہ وہ جگہ جہاں وہ سوتے رہے ممکن حد تک محفوظ تھی۔