انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · النحل
السورة ١٦

النحل

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآية ٣٥

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍ نَّحْنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ ٣٥

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے شریک ٹھہرائے، اگر چاہتا اللہ تو نہ عبادت کرتے ہم سوائے اللہ کے کسی (اور) چیز کی، ہم اور نہ ہمارے باپ دادا ہی اور نہ حرام کرتے ہم بغیر اس (کے حکم) کے کسی چیز کو، اس طرح ہی کیا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس نہیں ہے اوپر رسولوں کے (کچھ اور) مگر پہنچا دینا صریح (35)

[35] مشرکین اپنے شرک پر مشیت الٰہی کو دلیل بناتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ کبھی شرک نہ کرتے اور نہ وہ ان مویشیوں کو حرام ٹھہراتے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، مثلاً:بحیرہ، وصیلہ اور حام وغیرہ… مگر ان کی یہ دلیل باطل ہے اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان سے پہلے لوگوں کو ان کے شرک کی پاداش میں کبھی عذاب نہ دیتا اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک کو پسند کرتا تو ان کو کبھی عذاب نہ دیتا۔ دراصل حق کو، جسے رسول لے کر آئے، رد کرنے کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو امرونہی کا پابند بنایا ہے، ان کو اسی چیز کا مکلف ٹھہرایا ہے جس پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے اور دو چیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی ان کو قوت عطا کی ہے جس سے ان کے افعال صادر ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان کا قضاء و قدر کو دلیل بنانا سب سے بڑا باطل ہے اور ہر شخص حسی طور پر جانتا ہے کہ انسان جس فعل کا ارادہ کرتا ہے، اسے اس کو کرنے کی قدرت حاصل ہوتی ہے، اس میں کوئی نزاع نہیں ہے، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب اور عقلی اور حسی امور کی تکذیب کا ارتکاب کیا۔ ﴿فَهَلۡ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’پس رسولوں کی ذمے داری، کھول کر پہنچا دینا ہے‘‘ یعنی واضح اور ظاہر ابلاغ جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے اور کسی کے پاس اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی حجت نہ رہے۔ جب انبیاء و رسل ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اوامر و نواہی پہنچا دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں تقدیر کا بہانہ کرتے ہیں تو رسولوں کے اختیار میں کچھ نہیں ، ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔