انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · ابراهيم
السورة ١٤

ابراهيم

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ٤٢–٤٣

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَـٰرُ ٤٢ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌ ٤٣

اور نہ گمان کریں آپ اللہ کو بے خبر اس سے جو عمل کرتے ہیں ظالم، یقینا وہ مہلت دیتا ہے اس دن تک کہ پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں (42) دوڑ رہے ہوں گے وہ (محشر کی طرف) اٹھائے اپنے سروں کو، نہیں لوٹے گی (خود) ان کی طرف ان کی نگاہ اور ان کے دل (عقل و شعور سے) خالی ہوں گے (43)

[42] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ظالموں کے لیے سخت وعید اور مظلوموں کے لیے تسلی ہے، فرمایا ﴿وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور ہرگز مت خیال کریں کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دی ہے اور ان کو نہایت فراوانی سے رزق عطا کیا اور ان کو چھوڑ دیا کہ وہ نہایت اطمینان اور امن کے ساتھ چلیں پھریں ۔ پس یہ مہلت اور رزق کی فراوانی ان کے حسن حال پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں میں اضافہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑ لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود: 11 ؍102)’’اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی بستی کو اس کے ظلم کے سبب سے پکڑتا ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی سخت اور المناک ہوتی ہے۔‘‘ یہاں ظلم سے مراد وہ ظلم بھی ہے جو بندے اور اس کے رب کے مابین ہے اور وہ ظلم بھی ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر روا رکھتا ہے۔﴿اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’ان کو تو اس دن کے لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ کھلی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں ‘‘ یعنی ہول اور دہشت کی وجہ سے آنکھیں ادھر ادھر دیکھ نہیں سکیں گی، کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

[43]﴿مُهۡطِعِيۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہوں گے‘‘ جب پکارنے والا انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینے کے لیے پکارے گا تو وہ جلدی سے اس پکار پر لبیک کہیں گے، وہ اس سے بچ نہ سکیں گے، ان کا کوئی ٹھکانا ہو گا نہ کوئی پناہ گاہ ﴿ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ ﴾ ’’اوپر اٹھائے اپنے سر‘‘ یعنی اپنے سروں کو اس طرح اٹھائے ہوئے ہوں گے کہ ان کے ہاتھ ان کی ٹھوڑیوں کے ساتھ بندھے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں گے۔ ﴿ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ ﴾ ’’ان کی طرف ان کی آنکھیں پھر کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے‘‘ ان کے دل خالی ہوں گے اور حلق تک آجائیں گے مگر وہ ہر قسم کے غم و ہموم اور حزن و قلق سے لبریز ہوں گے۔