At-Tawba
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
وَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَجَـٰهِدُوا۟ مَعَ رَسُولِهِ ٱسْتَـْٔذَنَكَ أُو۟لُوا۟ ٱلطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا۟ ذَرْنَا نَكُن مَّعَ ٱلْقَـٰعِدِينَ 86 رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ 87
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو ساتھ (مل کر) اس کے رسول کے تو اجازت مانگتے ہیں آپ سے مقدرت والے ان میں سے اور کہتے ہیں چھوڑ دیجیے ہمیں کہ ہوجائیں ہم ساتھ بیٹھنے والوں کے(86) راضی ہوگئے وہ اس پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کے اور مہر لگا دی گئی دلوں پر، پس وہ نہیں سمجھتے(87)
[86] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویے پر کوئی اثر نہیں کرتیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب اترتی ہے کوئی سورت‘‘ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو ﴿ اسۡتَاۡذَنَكَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ‘‘ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنھیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب کر دیا ہے اور ان پر اپنا معاملہ سہل کر دیا ہے؟ مگر وہ سستی اور کاہلی کا شکار رہے اور پیچھے بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے رہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا ذَرۡنَا نَؔكُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ہمیں چھوڑدو! ہو جائیں (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔‘‘
[87]﴿ رَضُوۡا بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ‘‘ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کے ساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلیں ۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہ نمائی کرے؟ ﴿وَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ یا ’’ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔‘‘ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں ۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لیے اس صورت حال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔