U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naazi'aat
Suuradda 79

An-Naazi'aat

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 34–41

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ 34 يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ 35 وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ 36 فَأَمَّا مَن طَغَىٰ 37 وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا 38 فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ 39 وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ 40 فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ 41

پس جب آ جائے گی آفت بڑی (قیامت)(34) اس دن یاد کرے گا انسان جو اس نے کوشش کی (35) اور ظاہر کر دی جائے گی دوزخ (ہر) اس شخص کے لیے جو دیکھتا ہے (36) پس لیکن جس نے سرکشی کی (37) اور ترجیح دی اس نے حیات دنیا کو (38) تو بلاشبہ جہنم ہی (اس کا) ٹھکانا ہے(39) اور لیکن جو ڈر گیا سامنے کھڑے ہونے سے اپنے رب کے اور اس نے روکا (اپنے) نفس کو (بری) خواہش سے (40) تو بلاشبہ جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے (41)

[36-34] یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے ، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ يَوۡمَ يَتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰى ﴾ ’’اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔‘‘ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الۡؔجَحِيۡمُ لِمَنۡ يَّرٰى﴾ یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔

[39-37]﴿ فَاَمَّا مَنۡ طَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّ الۡؔجَحِيۡمَ هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔

[40، 41]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسولﷺ لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الۡؔجَنَّةَ ﴾ ’’تو بے شک جنت۔‘‘ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِيَ الۡمَاۡوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔