Al-Jinn
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
قُلْ أُوحِىَ إِلَىَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَقَالُوٓا۟ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا 1 يَهْدِىٓ إِلَى ٱلرُّشْدِ فَـَٔامَنَّا بِهِۦ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَدًا 2
(اے رسول!) کہہ دیجیے! کہ وحی کی گئی ہے میری طرف یہ کہ غور سے سنا ایک جماعت نے جِنُّوں میں سے(قرآن)تو انھوں نے کہا، بلاشبہ ہم نے سنا قرآن عجیب(1) وہ راہنمائی کرتا ہے راہِ حق کی طرف سو ہم ایمان لائے اس پر، اور ہرگز نہیں شریک ٹھہرائیں گے ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی(2)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿اُوۡحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ﴾ ’’میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو ) سنا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی آیات کے سماع کے لیے اپنے رسول کی طرف متوجہ کیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو، ان پر نعمتوں کا اتمام ہو اور وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان کا قصہ لوگوں کو سنا دیں۔ وہ قصہ یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے ’’خاموش رہو‘‘ پس جب وہ خاموش ہو گئے تو وہ قرآن کے معانی کے فہم سے بہرہ ور ہوئے اور قرآن کے حقائق ان کے دلوں تک پہنچ گئے۔ ﴿فَقَالُوۡۤا اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا﴾’’تو انھوں نے کہا، ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے نہایت قیمتی اور تعجب خیز کلام اور نہایت بلند مطالب سنے ہیں۔
[2]﴿يَّهۡدِيۡۤ اِلَى الرُّشۡدِ﴾ ’’وہ (قرآن) رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے۔‘‘ ( رُشْدٌ) ہر اس چیز کے لیے جامع نام ہے جو لوگوں کے دین و دنیا کے مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کرے ﴿فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَلَنۡ نُّشۡرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا﴾ ’’تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جس میں اعمال خیر داخل ہیں اور تقویٰ کو، جو ہر قسم کے شر کو ترک کرنے کو متضمن ہے، جمع کر لیا۔ انھوں نے اس کا سبب جس نے ان کو ایمان اور اس کے توابع کی طرف دعوت دی، قرآن کے ان ارشادات کو قرار دیا جن کا ان کو علم ہوا جو مصالح اور فوائد پر مشتمل اور ضرر سے خالی ہیں۔ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی دلیل اور قطعی حجت ہے جو اس سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اس کے طریقے کو راہنما بناتا ہے۔یہی وہ ایمان ہے جو نفع مند ہے جو ہر بھلائی سے بہرہ مند کرتا ہے اور جو ہدایت قرآن پر مبنی ہے، برعکس عادی، پیدائشی اور رواجی ایمان کے، کیونکہ یہ تقلیدی ایمان ہے جو شبہات کے خطرات اور بے شمار عوارض میں گھرا ہوا ہے۔