Al-An'aam
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهْوَآءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ 56 قُلْ إِنِّى عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّى وَكَذَّبْتُم بِهِۦ ۚ مَا عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦٓ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْفَـٰصِلِينَ 57 قُل لَّوْ أَنَّ عِندِى مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِٱلظَّـٰلِمِينَ 58
کہہ دیجیے! یقینا میں روک دیا گیا ہوں اس سے کہ عبادت کروں ان کی جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، کہہ دیجیے! نہیں پیچھے چلتا میں تمھاری خواہشات کے، تحقیق گمراہ ہو جاؤں گا میں اس وقت اور نہ ہوں گا میں ہدایت پانے والوں سے (56) کہہ دیجیے! یقیناً میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلایا تم نے اسے، نہیں ہے میرے پاس وہ چیز کہ جلدی طلب کررہے ہو تم اس کو ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا بیان فرماتا ہے وہ حق بات اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(57) کہہ دیجیے، اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز کہ جلدی طلب کر رہے ہو تم اس کو تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(58)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارتے ہیں ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمھارے لیے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهۡوَؔآءَؔكُمۡ١ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تمھاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا‘‘ یعنی اگر میں تمھاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہو جاؤں گا ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا۔‘‘
[57] رہی وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں ۔ ﴿ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’میں تو آپ رب کی دلیل روشن پر ہوں ۔‘‘ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں ۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ ﴿وَ﴾ مگر اے مشرکو! ﴿ؔكَذَّبۡتُمۡ بِهٖ ﴾ ’’تم نے اس کی تکذیب کی‘‘ اور یہ تمھاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لامحالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ ﴾ ’’حکم صرف اللہ کا ہے‘‘ جس طرح اس نے اوامر و نواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسی طرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض در خور اعتنا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کر دیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہو گئی۔ تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الۡفٰصِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کر دیتا ہے۔
[58]﴿ قُلۡ ﴾ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت، عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ﴿ لَّوۡ اَنَّ عِنۡدِيۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِهٖ لَقُضِيَ الۡاَمۡرُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہو چکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمھارے درمیان‘‘ پس میں تم پر عذاب واقع کر دیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمھارے لیے بھلائی نہیں ۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ اختیار میں ہے جو نہایت بردبار اور صبر کرنے والا ہے، نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأ ت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے‘‘ ان کے احوال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔