At-Tur
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ 47 وَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ 48 وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَـٰرَ ٱلنُّجُومِ 49
اور بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک عذاب ہے (دنیا میں) علاوہ اس (عذاب آخرت) کے اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (47) اور آپ صبر کیجیے حکم آنے تک اپنے رب کا، پس بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی جس وقت آپ کھڑے ہوں (48) اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس تسبیح کیجیے اس کی اور پیچھے (غروب ہونے) ستاروں کے بھی(49)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے روز ظالموں کے لیے عذاب ہے، آگاہ فرمایا کہ قیامت کے روز عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے اور یہ عذاب قتل کیے جانے، قیدی بنائے جانے، اپنے گھروں سے نکالے جانے، قبر اور برزخ کے عذاب کو شامل ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اسی لیے ایسے کاموں پر جمے ہوئے ہیں جو عذاب اور سخت سزا کے موجب ہیں۔
[48، 49] جب اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اقوال کے بطلان پر دلائل وبراہین بیان کر دیے تو اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان مشرکین کی کچھ بھی پروا نہ کریں اور اپنے رب کے حکم قدری و شرعی کا استقامت کے ساتھ التزام کرتے ہوئے اس پر صبر کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے۔ فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی آپ ہمارے سامنے، ہماری حفاظت میں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حکم دیا کہ صبر، ذکر الٰہی اور عبادت سے مدد لیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُ﴾ ’’او ر (اے نبی!) جب آپ کھڑیں ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجیے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَاِدۡبَارَؔ النُّجُوۡمِ﴾ ’’اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس آپ اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔‘‘ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی داخل ہے۔