Adh-Dhaariyat
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ 56 مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ 57 إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلْقُوَّةِ ٱلْمَتِينُ 58
اور نہیں پیدا کیے میں نے جن اور انسان مگر (اس لیے) تاکہ وہ عبادت کریں میری ہی (56) نہیں چاہتا میں ان سے کوئی رزق اور نہیں چاہتا میں یہ کہ وہ کھلائیں مجھے (57) بلاشبہ اللہ ہی ہے، رزاق، قوت والا، نہایت قوی (58)
[56] وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
[57]﴿ مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ﴾ ’’ میں ان سے كوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘ یعنی اللہ عزوجل اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج و مطالب ضروریہ اور غیر ضروریہ میں اس کی محتاج ہے۔
[58] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے۔ زمین میں نہ آسمان میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو، وہ اس کا ٹھکانا بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے ﴿ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ﴾ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے اتنے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ، کوئی بھاگنے والا اسے بے بس کر سکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو رزق بہم پہنچایا۔یہ اس کی قدرت و قوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کر دیا ہو گا، ہوائیں ان (کے ذرات) کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی، پرندے اور درندے انھیں نگل چکے ہوں گے، اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔