Al-Jaathiya
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
ٱللَّهُ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَكُمُ ٱلْبَحْرَ لِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ 12 وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ 13
اللہ وہ ہے جس نے مسخر کر دیا تمھارے لیے سمندر کو تاکہ چلیں کشتیاں اس میں اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو تم اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو (12) اور مسخر کر دیا اس نے تمھارے لیے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے سب اپنی طرف سے، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لیے سمندر کو مسخر کیا۔ ﴿وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمھاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔
[13]﴿وَسَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مِّؔنۡهُ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمھارے لیے مسخر کردیا۔‘‘ یعنی اپنے فضل و احسان سے۔ یہ آیت کریمہ آسمانوں اور زمین کے تمام اجسام اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت کی ہے ، مثلاً: سورج، چاند، کواکب، ستارے، سیارے، حیوانات کی مختلف انواع، درختوں اور پھلوں کی مختلف اصناف ، معدنیات کی اقسام اور دیگر چیزیں جن کے اندر بنی آدم کے مصالح اور ان کی ضروریات ہیں۔ یہ چیز اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں پوری کوشش کریں اور اپنے فکر کو اس کی آیات اور حکمتوں میں تدبیر کرنے میں صرف کریں۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک اس میں غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ان آیات میں سے اس کائنات کی تخلیق، اس کی تدبیر اور اس کی تسخیر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفوذ اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں پائی جانے والی مضبوطی، مہارت، انوکھی صنعت اور حسن تخلیق اس کی حکمت کاملہ اور اس کے علم کی دلیل ہے۔ اس کائنات کی وسعتیں اور اس کی عظمت و کثرت، اللہ تعالیٰ کے وسیع اقتدار و سلطنت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کائنات میں تخصیصات اور متضاد اشیاء کا وجود، اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کائنات میں موجود دینی اور دنیاوی منافع و مصالح اس کی بے پایاں رحمت، لامحدود فضل و احسان اور اس کے گوناگوں لطف و کرم پر دلالت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر چیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ یکتا ہے اور وہی ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی اس چیز کا مستحق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کے سامنے تذلل کا اظہار کیا جائے۔ نیز ہر چیز اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ لے کر آئے ہیں، سب صداقت پر مبنی ہے ۔یہ واضح عقلی دلائل ہیں جو کسی قسم کے شک و ریب کا شائبہ قبول نہیں کرتے۔