U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
Suuradda 3

Aal-i-Imraan

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadda 155

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ مِنكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ إِنَّمَا ٱسْتَزَلَّهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا۟ ۖ وَلَقَدْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ 155

بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے تھے تم میں سے، جس دن ملی تھیں دو جماعتیں، یقیناً پھسلا دیا تھا ان کو شیطان نے بہ سبب بعض ان (کوتاہیوں) کے جو انھوں نے کیں اور تحقیق معاف کر دیا اللہ نے ان سے، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا بڑا بردبار ہے(155)

[155] اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جنھوں نے احد کے روز ہزیمت اٹھائی۔ اور ان عوامل کی خبر دی جو ان کے فرار کا موجب بنے۔ نیز یہ کہ شیطان نے ان کو گمراہ کیا اور وہ ان کے بعض گناہوں کے سبب سے ان پر مسلط ہوگیا۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے شیطان کو دراندازی کی اجازت دی اور اپنی نافرمانیوں پر اسے اختیار دے دیا کیونکہ معصیت شیطان کی سواری اور اس کی دراندازی کا ذریعہ ہے۔ اگر وہ اپنے رب کی اطاعت کے ذریعے سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے تو شیطان کو ان پر کوئی اختیار نہ ہوتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ عِبَادِيۡ لَيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ﴾(بنی اسرائیل : 17؍65) ’’بے شک میرے جو بندے ہیں ان پر تیرا کوئی اختیار نہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے ان لوگوں کو معاف کر دیا جن سے یہ قابل مواخذہ فعل سرزد ہوا اور اگر وہ ان کا مواخذہ کرتا تو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ﴾ بے شک اللہ خطا کار گناہ گاروں کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا کر کے اور ان کو مصائب میں مبتلا کر کے بخش دیتا ہے ﴿حَلِيۡمٌ﴾ یعنی جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ اسے توبہ و انابت کے لیے اپنی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے اس کی طرف لوٹ آئے تو وہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اسے ایسے کر دیتا ہے جیسے اس سے کوئی گناہ اور عیب صادر ہی نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اللہ تعالیٰ ہی کی حمدو ثنا ہے۔