U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Furqaan
Suuradda 25

Al-Furqaan

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 30–31

وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَـٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا 30 وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا مِّنَ ٱلْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا 31

اور کہیں گے (اللہ کے) رسول، اے میرے رب ! بلاشبہ میری قوم نے بنا (ٹھہرا) لیا تھا اس قرآن کو چھوڑا ہوا (30) اور اسی طرح بنائے ہم نے واسطے ہر نبی کے دشمن مجرموں میں سے اورکافی ہے آپ کا رب ہدایت دینے والااور مدد گار (31)

[30]﴿وَقَالَ الرَّسُوۡلُ ﴾ اور کہا رسول(ﷺ) نے‘‘ اپنے رب کو پکارتے، قرآن سے ان کی روگردانی کا شکوہ کرتے اور ان کے رویے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے:﴿ يٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِي ﴾ ’’اے میرے رب! میری قوم نے۔‘‘ جن کی ہدایت اور جن میں تبلیغ کرنے کے لیے تو نے مجھے مبعوث کیا تھا ﴿ اتَّؔخَذُوۡا هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا﴾ انھوں نے اس قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے، اس کے احکام کو قبول کرتے اور اس کی پیروی کرتے۔

[31] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کے گزشتہ آباء واجداد نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ یہ کر رہے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح بنایا ہم نے ہر نبی کا دشمن، گناہ گاروں میں سے۔‘‘ یعنی ان لوگوں میں سے جو بھلائی کی صلاحیت رکھتے تھے نہ اس کے لائق تھے بلکہ اس کے برعکس وہ انبیاء ورسل کی مخالفت کرتے تھے، ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اور باطل دلائل کے ذریعے سے ان کے ساتھ جھگڑتے تھے۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، حق پوری طرح واضح ہوتا ہے کیونکہ باطل کا حق کے ساتھ معارضہ ایک ایسا امر ہے جو حق کو اور زیادہ واضح اور استدلال کو درجۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کو کس عزت و تکریم سے سرفراز کرے گا اور اہل باطل کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، لہٰذا آپ ان کی باتوں پر غمزوہ نہ ہوں اور ان پر حسرت اور غم کے مارے آپ کی جان نہ گھلے۔ ﴿ وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا﴾ ’’اور آپ کو راہ دکھانے کے لیے آپ کا رب کافی ہے۔‘‘ پس آپ کو اپنا مطلوب و مقصود اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح حاصل ہوں گے۔ ﴿وَنَصِيۡرًا﴾ ’’اور مددگار بھی۔‘‘ وہ آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد کرے گا آپ کے دینی اور دنیاوی معاملات میں آپ سے تکلیف دہ امور کو دور کرے گا، اس لیے آپ اللہ تعالیٰ ہی کو کافی سمجھیے اور اسی پر بھروسہ کیجیے۔