Al-Baqara
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ 6 خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَـٰرِهِمْ غِشَـٰوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ 7
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، برابر ہے ان پر، آیا آپ ڈرائیں انھیں یا نہ ڈرائیں انھیں، نہیں ایمان لائیں گے وہ(6) مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور اوپر ان کے کانوں کےاور اُوپر ان کی آنکھوں کے پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا(7)
[6] اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا یعنی کفر کی صفات سے متصف ہوئے اور کفر کے رنگ میں اس طرح رنگ گئے کہ کفر ان کا وصف لازم بن گیا جس سے کوئی ہٹانے والا ان کو ہٹا نہیں سکتا اور نہ کوئی نصیحت ان پر کارگر ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے کفر میں راسخ اور اس پر جمے ہوئے ہیں لہٰذا ان کے لیے برابر ہے تم انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ حقیقت میں کفر اس تعلیم یا اس کے بعض حصے کا انکار کرنے کا نام ہے جسے رسول اللہﷺلے کر آئے۔ پس ان کفار کو کوئی دعوت فائدہ نہیں دیتی البتہ اس دعوت سے ان پر حجت ضرور قائم ہو جاتی ہے۔ اس آیت میں گویا رسول اللہﷺکی اس امید کو ختم کر دیا گیا جو آپ کو ان کے ایمان لانے کی تھی اور فرما دیا گیا کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمزدہ نہ ہوں اور ان کفار کے ایمان نہ لانے پر افسوس اور حسرت کے مارے آپ ہلکان نہ ہوں۔
پھر ان موانع کا ذکر کیا ہے جو ان کے ایمان لانے سے مانع ہیں۔
[7]﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰي سَمۡعِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، لہٰذا ایمان ان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ پس وہ کسی فائدہ مند چیز کو یاد کر سکتے ہیں، نہ کسی فائدہ مند چیز کو سن سکتے ہیں۔ ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾ یعنی ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ ہے جو انھیں فائدہ مند چیزوں کو دیکھنے سے روکتا ہے۔ یہی وہ ذرائع ہیں جو علم اور بھلائی کے حصول میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان ذرائع کو ان پر مسدود کر دیا گیا ہے، لہٰذا ان سے کسی قسم کی توقع نہیں کی جا سکتی اور نہ ان سے کسی بھلائی کی امید کی جا سکتی ہے۔ ان پر ایمان کے دروازے صرف اس لیے بند کر دیے گئے کہ انھوں نے حق کے عیاں ہو جانے کے بعد بھی کفر، انکار اور عناد کا رویہ اختیار کیے رکھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (وہ اس قرآن پر اس طرح ایمان نہ لائیں گے) جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہ لائے۔‘‘ یہ دنیاوی عذاب ہے۔ پھر آخرت کے عذاب کا ذکر کیا اور فرمایا: ﴿وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے‘‘ یہ جہنم کا عذاب اور اللہ جبار کی دائمی ناراضی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کا ذکر فرمایا جو ظاہری طور پر مسلمان ہیں مگر ان کا باطن کفر سے لبریز ہے۔