Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Infitaar
Surah 82

Al-Infitaar

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 13–19

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ 13 وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍ 14 يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ 15 وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ 16 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ 17 ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ 18 يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا ۖ وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ 19

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19)

[19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔