Adh-Dhaariyat
Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.
Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21
وَفِى ٱلْأَرْضِ ءَايَـٰتٌ لِّلْمُوقِنِينَ 20 وَفِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ 21 وَفِى ٱلسَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ 22 فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِنَّهُۥ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ 23
اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے (20) اور (خود) تمھارے نفسوں میں بھی، کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (21) اور آسمان میں ہے تمھارا رزق اور وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(22) پس قسم ہے پروردگار کی آسمان اور زمین کے! بلاشبہ وہ (مذکورہ باتیں) البتہ حق ہیں مثل اس کے جو تم بولتے ہو (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے ، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
[21] اور اسی طرح خود بندے کی ذات میں بے شمار عبرتیں ، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بے نیاز ہے، اس نے مخلوق کو بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
[22]﴿ وَفِي السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ ’’اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔‘‘ یعنی تمھارے رزق کا مادہ ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔
[23] جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّـكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ﴾ ’’پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔