As-Sajda
Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.
Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَدْنَىٰ دُونَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ 21
اور البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان کو عذابِ ادنیٰ پہلے عذابِ اکبر سے، تاکہ وہ (ہماری طرف) لوٹیں(21)
[21] ہم رسول کی تکذیب کرنے والے فاسقوں کو نمونے کے طور پر کم تر عذاب کا مزا چکھائیں گے اور وہ برزخ کا عذاب ہے۔ پس ہم برزخ کے عذاب کا کچھ مزا ان کے مرنے سے پہلے انھیں چکھائیں گے اس سے مراد قتل وغیرہ کا عذاب ہے، جیسے غزوہ بدر میں مشرکین کو قتل کیا گیا… یا اس سے مراد موت کے وقت کا عذاب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اس کا ذکر آتا ہے:﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ ﴾(الانعام:6؍93) ’’اور کاش آپ دیکھتے، جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے عذاب کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں، آج تمھیں رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی۔‘‘ پھر برزخ میں ان کا یہ کم تر عذاب مکمل ہو جائے گا۔ یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے واضح دلائل میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى ﴾ اور ہم انھیں قریب کے کم تر عذاب میں سے چکھائیں گے یعنی اس عذاب کا کچھ حصہ، پس یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ’’عذاب اکبر‘‘ یعنی جہنم کے عذاب سے پہلے بھی ان کو عذاب ادنیٰ میں مبتلا کیا جائے گا۔چونکہ عذاب ادنیٰ کا مزا جو انھیں دنیا میں چکھایا جائے گا، بسا اوقات اس سے موت واقع نہیں ہوتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ انھیں عذاب ادنیٰ کا مزا اس لیے چکھاتا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحروبر میں فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے، تاکہ وہ ان کو مزا چکھائے ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔‘‘