Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ar-Room
Surah 30

Ar-Room

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 54

ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ 54

اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں کمزوری (کی حالت) سے ، پھر کر دی اس نے بعد کمزوری کے قوت ، پھر کر دی اس نے بعد قوت کے کمزوری اوربڑھاپا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، اور وہ خوب جاننے والا، بڑا قدرت والا ہے (54)

[54]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسعت علم، عظمت اقتدار اور کمال حکمت کو بیان کرتا ہے کہ اس نے انسان کو کمزوری سے پیدا کیا اور وہ اس کی تخلیق کے ابتدائی مراحل ہیں یعنی اسے نطفہ سے جما ہوا خون بنایا ، پھر گوشت کا لوتھڑا بنایا اور پھر رحم کے اندر زندہ انسان بنایا ، پھر اس کو ماں کے پیٹ سے پیدا کیا۔ جب وہ سن طفولیت میں ہوتا ہے تو انتہائی ضعیف اور اس میں قوت و قدرت معدوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جوانی کو پہنچ جاتا ہے، اس کی قوت اور اس کے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس مرحلے سے کمزوری اور بڑھاپے کی طرف لوٹتا ہے۔﴿يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ﴾ وہ اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بندہ اپنے ضعف کا مشاہدہ کرے۔ اس کی قوت دو قسم کی کمزوریوں سے گھری ہوئی ہے اور فی نفسہ اس کے پاس نقص کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے طاقت عطا نہ کرے تو اسے طاقت حاصل ہو سکتی ہے نہ قدرت اور اگر اس کی قوت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے تو وہ بغاوت اور سرکشی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت دائمی ہے وہ اپنی قدرت سے جو چاہتا ہے تخلیق کرتا ہے، اپنی قدرت سے تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، اسے تھکن لاحق ہوتی ہے نہ کمزوری اور نہ کسی طرح اس میں کمی واقع ہوتی ہے۔