Aal-i-Imraan
Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.
Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِٱلْقِسْطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 21 أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ 22
بے شک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ کی آیتوں کے اور قتل کرتے ہیں نبیوں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم دیتے ہیں ساتھ انصاف کے لوگوں میں سے، پس خوشخبری سنا دیجیے ان کو عذاب دردناک کی (21) یہی وہ لوگ ہیں کہ برباد ہو گئے عمل ان کے دنیا اور آخرت میں اور نہیں واسطے ان کے کوئی مددگار (22)
[22-21] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر و عناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انھوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان لوگوں کی، جنھیں اچھی بات بتائی جاتی ہے یا بری بات سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن انھوں نے اس احسان اور خیر خواہی کا انتہائی برا جواب دیا کہ اپنے محسنوں کو شہید کردیا۔ ان شنیع جرائم کی وجہ سے وہ انتہائی سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ یعنی ایسا شدید اور دردناک عذاب جس کو پوری طرح بیان کرنا، اور اس کی شدت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ جس کی تکلیف بدنوں، دلوں اور روحوں کے لیے ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ انھیں کوئی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، بلکہ اللہ کی دی ہوئی سزا میں کوئی ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ انھیں ہر شر اور مصیبت حاصل ہوگی۔ یہ حالت یہود کی، اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی ہے۔ اللہ ان کا برا کرے۔ یہ اللہ پر، نبیوں پر اور نیک لوگوں پر کتنے جری ہیں؟