Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Naml
Surah 27

An-Naml

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 61

أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَـٰلَهَآ أَنْهَـٰرًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ 61

(یہ بت بہتر ہیں ) یا وہ (اللہ) جس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کے لائق اور بنا دیں اس کے درمیان نہریں اور بنائے اس کے لیے مضبوط پہاڑ اور بنا دی درمیان دو سمندروں کے آڑ؟ کیا ہے کوئی (اور) معبود ساتھ اللہ کے؟(نہیں !)بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے l

[61] یعنی کیا یہ بت اور اصنام جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں ، جن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، جو رزق دینے پر قادر ہیں نہ کوئی نفع پہچانے کی قدرت رکھتے ہیں ، وہ بہتر ہیں یا اللہ تعالیٰ؟ جس نے ﴿ اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’زمین کو قرار گاہ بنایا۔‘‘ جہاں بندے گھر اور ٹھکانا بناتے ہیں ، کھیتی باڑی کرتے ہیں ، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور ادھر ادھر آتے جاتے ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنۡهٰرًا ﴾ یعنی ا س نے زمین کے اندر دریا جاری كيے جن سے اس کے بندے اپنے کھیتیوں اور باغات میں فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان سے خود پانی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھ دیے اس کے اندر بوجھ۔‘‘ یعنی زمین کے اندر پہاڑ جما دیے جو اسے مضبوط رکھتے ہیں تاکہ یہ کہیں ڈھلک نہ جائے اور پہاڑ میخوں کا کام دیں تاکہ زمین نہ ہلے۔ ﴿ وَجَعَلَ بَيۡنَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’دو دریاؤں کے مابین بنائی۔‘‘ یعنی نمکین اور کھاری سمندر اور میٹھے سمندر کے درمیان ﴿حَاجِزًا﴾’’رکاوٹ۔‘‘ جو ان دونوں کو خلط ملط ہونے سے روکے ہوئے ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں پانیوں کی منفعت مقصود ضائع ہو جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کی رکاوٹ حائل کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے دریاؤں کی گزر گاہوں کو سمندر سے بہت دور رکھا ہے تاکہ دریاؤں سے مصالح اور مقاصد کا حصول ممکن ہو۔﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ﴾ ’’کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے‘‘ جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو اور یوں اسے اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا جائے؟ ﴿ بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے وہ اپنے سرداروں کی تقلید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ورنہ اگر انھیں پوری طرح علم ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرتے۔