Langkau ke kandungan
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nahl
Surah 16

An-Nahl

Ini ialah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab seperti yang ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan oleh spa5k/tafsir_api. Rekod QUL tidak menyatakan siapa yang menulis atau menterjemahkannya atau edisi cetakan mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lesen bagi teks itu, maka hak untuk memaparkannya belum disahkan. Belum ada sesiapa yang membandingkannya dengan buku bercetak, dan tiada ulama yang menyemaknya. Setiap bahagian berada di sisi ayat-ayat yang diulasnya, iaitu teks Al-Quran daripada Tanzil, dipaparkan seperti yang ada di sana. Sabīl tidak menulis atau menterjemahkan satu pun daripadanya.

Teks daripadaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil pada 2026-10-21

Ayat 66–67

وَإِنَّ لَكُمْ فِى ٱلْأَنْعَـٰمِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِى بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشَّـٰرِبِينَ 66 وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلْأَعْنَـٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ 67

اور بے شک تمھارے لیے چوپایوں میں ، البتہ غور کا سامان ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس میں سے جو پیٹوں میں ہے ان کے (یعنی) درمیان میں سے گوبر اورخون کے، دودھ خالص، آسانی سے گزر جانے والا ہے حلق سے واسطے پینے والوں کے (66) اور کچھ پھلوں میں سے کھجوروں اور انگوروں کے (وہ ہیں کہ) بناتے ہو تم اس میں سے نشہ (آور شراب) اور رزق اچھا، بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں (67)

[66]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور بے شک تمھارے لیے چوپایوں میں ‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے فوائد کے لیے مسخر کیا ﴿ لَعِبۡرَةً﴾ ’’سوچنے کی جگہ ہے‘‘ جس سے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور وسعت احسان پر استدلال کر سکتے ہو کیونکہ اس نے تمھیں ان مویشیوں کے پیٹ سے (دودھ) پلایا جس کا مادہ گوبر اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوبر اور خون سے ایسا دودھ نکالا جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور اپنی لذت کی بنا پر پینے والوں کے لیے انتہائی خوش ذائقہ ہے، نیز یہ کہ اس کو پیا جاتا ہے اور اس سے غذا حاصل کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ طبیعی امور کی بجائے قدرت الٰہیہ نہیں ہے؟ اس عالم طبیعیات میں کون سی چیز ہے جو اس چارے کو جسے چوپائے کھاتے ہیں اور اس میٹھے یا کھارے پانی کو جسے یہ چوپائے پیتے ہیں ، پینے والوں کے لیے خالص اور لذیذ دودھ میں بدل دیتی ہے۔

[67] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کھجور اور انگور پیدا کیے، نیز بندوں کے فوائد کے لیے رزق حسن کی مختلف انواع پیدا کی ہیں جن کو وہ تازہ بتازہ اور ان کے پکنے کے بعد کھاتے ہیں ، انھیں ذخیرہ کرتے ہیں ، انھیں کھانے پینے کے لیے استعمال میں لاتے ہیں ، ان سے رس نچوڑ کر نبیذ اور دیگر نشہ آور مشروبات بناتے ہیں جو اس سے قبل ان کے لیے حلال تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض انھیں پھلوں سے نچوڑے ہوئے پاک و صاف رس، نبیذ اور مختلف اقسام کے لذیذ اور مباح مشروبات عطا کیے۔ اس لیے جن مفسرین کا قول یہ ہے کہ ’’یہاں نشہ آور چیزوں سے مراد، لذیذ مطعومات و مشروبات ہیں ‘‘ وہ پہلے قول سے زیادہ قرین صواب ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں ) میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اس کی قدرت کاملہ کو خوب سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے درختوں پر ایندھن سے مشابہت رکھنے والی چیزیں پیدا کیں جو ایک لذید پھل اور خوش ذائقہ میوہ بن جاتی ہیں ۔ اس کی رحمت عام اور بے پایاں ہے جو اس کے تمام بندوں پر سایہ کناں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کو سب کے لیے آسان کر دیا… نیز وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے کیونکہ ان نعمتوں کو عطا کرنے میں وہ یکتا ہے۔