Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
Surah 9

At-Tawba

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْـًٔا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ 25 ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ 26 ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 27

البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بہت سی جگہوں میں اوردن حنین کے(بھی) جبکہ خوش فہمی میں ڈال دیا تھا تم کو تمھاری کثرت نے، پس نہ کام آئی وہ تمھارے کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود فراخی کے ، پھر لوٹے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے(25) پھر نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اورنازل کیے اس نے ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو اور عذاب دیا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیااور یہی سزا ہے کافروں کی(26) پھر توجہ فرمائے گا اللہ، بعد اس کے، جس پر چاہے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(27)

[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ نَصَرَؔكُمُ اللّٰهُ فِيۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ١ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ ﴾ ’’یقینا اللہ نے تمھاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن‘‘ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا۔ ﴿ اِذۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’جب تمھیں تمھاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کر دیا پس اس نے تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیا‘‘ تمھاری کثرت نے تمھیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’اورزمین تم پر تنگ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب تمھیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿ بِمَا رَحُبَتۡ ﴾ ’’اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود‘‘ ﴿ ثُمَّؔ وَلَّيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔‘‘

[26]﴿ ثُمَّؔ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی‘‘ سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے﴿ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا ﴾ ’’اور ایسے لشکر اتارے جو تمھیں نظر نہیں آتے تھے‘‘ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انھیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور کافروں کو عذاب دیا‘‘ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہے سزا کافروں کی‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

[27]﴿ ثُمَّؔ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔