An-Naba
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا 31 حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًا 32 وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا 33 وَكَأْسًا دِهَاقًا 34 لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّٰبًا 35 جَزَآءً مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا 36
بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔