Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qiyaama
Surah 75

Al-Qiyaama

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 20–25

كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ 20 وَتَذَرُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ 21 وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ 22 إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23 وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌ 24 تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ 25

ہرگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25)

[21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہے۔آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے، اس لیے تم ان سے غافل ہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے، یہ دنیا کا گھر ہی تمھارا دائمی ٹھکانا ہے، جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں، اس دنیاکے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہو رہی ہے، اور اس سے تمھارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمھیں ایسی فوز و فلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔

[23,22] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں، چنانچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ﴾ اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت، اور ارواح کی لذت کے باعث ان کے چہروں پر رونق اور نور ہو گا۔ ﴿ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ ’’اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح و شام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔

[25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾ ’’خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔‘‘ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔