Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qalam
Surah 68

Al-Qalam

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 42–43

يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ 42 خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا۟ يُدْعَوْنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمْ سَـٰلِمُونَ 43

جس دن کھولا جائے گا پنڈلی سے اور بلائے جائیں گے وہ سجدے کی طرف تو نہیں استطاعت رکھیں گے وہ (42) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں ، ڈھانپتی ہو گی انھیں ذلت، اور تحقیق تھے وہ بلائے جاتے طرف سجدے (عبادت) کی جبکہ وہ صحیح سالم تھے (43)

[43,42] یعنی جب قیامت کا دن ہو گا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی جو وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے اور ان کو جزا و سزا دینے کے لیے تشریف لائے گا۔ پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر کرے گا جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی، لوگ اللہ تعالیٰ کا جلال اور عظمت دیکھیں گے جس کی تعبیر ممکن نہیں۔ یہی وہ وقت ہو گا جب ان کو سجدے کے لیے کہا جائے گا۔ مومن اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے جو (دنیا میں) اپنی مرضی اور اختیار سے سجدہ کیا کرتے تھے۔منافق اور فاجر سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے، ان کی کمریں ایسی ہو جائیں گی جیسے گائے کے سینگ جو جھک نہ سکیں گی۔ یہ جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہے کیونکہ دنیا کے اندر انھیں سجدے کرنے، توحید اور عبادت کے لیے بلایا جاتا، درآں حالیکہ وہ صحیح سلامت ہوتے تھے اور ان میں کوئی بیماری نہ ہوتی تھی تو وہ تکبر و استکبار سے سجدے سے انکار کر دیتے تھے۔ اس دن ان کے حال اور برے انجام کے بارے میں مت پوچھ کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہو گا، کلمۂ عذاب ان پر حق ثابت ہو گا، ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے اور قیامت کے روز ندامت اور اعتذار کوئی فائدہ نہ دیں گے … پس اس آیت میں ایسی چیزوں کا بیان ہے جو قلوب کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈراتی ہیں اور مدت امکان کے اندر تدارک کی موجب ہیں۔