Ar-Rahmaan
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَٱلدِّهَانِ 37 فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 38 فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌ وَلَا جَآنٌّ 39 فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 40 يُعْرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَـٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَٰصِى وَٱلْأَقْدَامِ 41 فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 42
پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42)
[37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔
[39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔