Adh-Dhaariyat
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
وَفِى مُوسَىٰٓ إِذْ أَرْسَلْنَـٰهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ 38 فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِۦ وَقَالَ سَـٰحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ 39 فَأَخَذْنَـٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ 40
اور موسیٰ (کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کی طرف ساتھ دلیل (معجزے) ظاہر کے (38) پس اس نے رو گردانی کی بہ سبب اپنی قوت کے اور کہا: (موسیٰ) ساحر یا مجنون ہے(39) پس گرفت کی ہم نے اس کی اور اس کےلشکروں کی اور پھینک دیا ہم نے ان کو سمندر میں اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا (40)
[38]﴿ وَفِيۡ مُوۡسٰۤى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
[39] چنانچہ جب حضرت موسیٰu واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكۡنِهٖ﴾ ’’اپنے لشکر کے ساتھ‘‘ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰu کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰu میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ u سچے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔‘‘ اور حضرت موسیٰ uنے فرعون سے فرمایا :﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل: 17؍102)’’تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا ۔‘‘
[40]﴿فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾ ’’پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔‘‘ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔‘‘ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔