Al-Fath
Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.
Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا 1 لِّيَغْفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَٰطًا مُّسْتَقِيمًا 2 وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا 3
بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی.
[2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔
[3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا: