Langsung ke konten
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ghaafir
Surah 40

Al-Ghaafir

Ini adalah sebuah tafsir dalam bahasa selain bahasa Arab sebagaimana ada pada Quranic Universal Library (QUL, oleh Tarteel), diambil melalui salinan terbuka data QUL yang disimpan spa5k/tafsir_api. Catatan QUL tidak menyebutkan siapa yang menulis atau menerjemahkannya maupun edisi cetak mana yang diikutinya, dan tidak menyatakan lisensi untuk teksnya, sehingga hak untuk menampilkannya belum diverifikasi. Belum ada yang membandingkannya dengan buku cetak, dan belum ada ulama yang meninjaunya. Setiap bagian berdiri di samping ayat-ayat yang diulasnya, yaitu teks Al-Qur’an dari Tanzil, ditampilkan sebagaimana adanya di sana. Sabīl tidak menulis atau menerjemahkan satu pun darinya.

Teks dariQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITdiambil 2026-10-21

Ayat 66–68

قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِىَ ٱلْبَيِّنَـٰتُ مِن رَّبِّى وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ 66 هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًا مُّسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ 67 هُوَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ 68

کہہ دیجیے:بے شک میں تو روک دیا گیا ہوں اس سے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے جبکہ آ گئیں میرے پاس واضح دلیلیں میرے رب کی طرف سے اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ فرمان بردار رہوں میں واسطے رب العالمین کے (66) وہی ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو مٹی سے ، پھر نطفے سے ، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر نکالتا ہے وہ تم کو بچہ بنا کر، پھر تاکہ پہنچو تم اپنی جوانی(کی قوتوں)کو، پھر تاکہ ہو جاؤ تم بوڑھے، اور تم میں سے کچھ وہ ہیں جو فوت کر دیے جاتے ہیں اس سے پہلے ہی اورتاکہ پہنچو تم ایک مدت معین کو اور تاکہ تم عقل پکڑو (67) وہ (اللہ) وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے، پس جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے کسی کام تو وہ صرف (یہ)کہتا ہے اس کو، ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے (68)

[66] اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اپنے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل و براہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیراللہ کی عبادت سے روکا ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! کہہ دیجیے: ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔‘‘ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿لَمَّا جَآءَؔنِيَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّيۡ١ٞ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔‘‘ مجھے اپنے دل، زبان، اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے ’’بڑا حکم‘‘ ہے۔ اسی طرح غیراللہ کی عبادت سے ’’نہی‘‘ علی الاطلاق سب سے بڑی نہی ہے۔

[67] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمھارا خالق ہے اور اس نے تمھیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمھیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم اسی کے لیے عبادت کرو، چنانچہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’وہی تو ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘یعنی اس نے تمھارے جدامجد حضرت آدمu کو مٹی سے تخلیق فرمایا ﴿ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾’’ پھر نطفہ سے‘‘ یہ تمام نوع انسانی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، نطفہ سے خون کا لوتھڑا بننا، پھر بوٹی بننا ، پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔﴿ثُمَّ يُخۡرِجُؔكُمۡ طِفۡلًا ﴾ ’’ پھر تمھیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔‘‘ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کوپہنچ جاؤ اور تمھارے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجائیں۔ ﴿ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا١ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بالغ ہونے سے پہلے ﴿وَلِتَبۡلُغُوۡۤا ﴾’’اور تاکہ تم پہنچ جاؤ ۔‘‘ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمھاری عمر ختم ہو جاتی ہے۔﴿وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمھیں معلوم ہو کہ تمھیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔

[68]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ ’’وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے‘‘ یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(فاطر: 35؍11)’’کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘﴿فَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا ﴾ ’’ پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔‘‘ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔